5 نومبر 2016 - 18:54
شام کی فری فورس امریکہ کی اجازت کے بغیر ایک گولی بھی نہیں چلاتے: فری فورس کا کمانڈر

آزاد فوجی کہلانے والی شام میں سرگرم ایک تکفیری دہشت گرد گروہ ہے جس نے شام کے پانچ سالہ بحران میں تباہی برپا کرنے کا کردار ادا کیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آزاد فوجی کہلانے والی شام میں سرگرم ایک تکفیری دہشت گرد گروہ ہے جس نے شام کے پانچ سالہ بحران میں تباہی برپا کرنے کا کردار ادا کیا ہے ۔

یہ دہشت گرد گروہ کہ جو شام کے اکثر علاقوں میں سرگرم ہے علاقے کے کچھ ملکوں خاص کر ترکی ، قطر ، سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے لیجیسلیٹیکی اور تسلیحاتی امداد وصول کرتا ہے ۔

شام کی آزاد فوج کے دہشت گرد جو اپنے اقدامات کو زیادہ تر ترکی اور امریکہ کے ساتھ مل کر انجام دیتے ہیں انہوں نے شام کے بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔

درعا، ریف دمشق، قنیطرہ، ریف شمالی، حلب، ادلب، اور لاذقیہ وغیرہ، شام کی آزاد فوج اور اس کے حلیفوں کی سرگرمی کے علاقے ہیں کہ ان علاقوں میں اس دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں بہت سارے بے گناہ  لوگ مارے گئے ہیں ۔

رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ فوجی کاروائی کے علاقوں میں امریکہ کے تعاون کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا ۔

آزاد فوج نامی دہشت گرد گروہ  کے ایک کمانڈر نے اس سلسلے میں الجزیرہ چینل کو بتایا : مسلح دہشت گرد مخالفین کے گروہ اپنے حامیوں منجملہ امریکہ کی اجازت کے بغیر ایک گولی بھی نہیں چلاتے ۔

شام میں سرگرم  مسلح گروہوں اور عناصر کی زبوں حالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا : ہر گروہ دعوی کرتا ہے کہ  اس کے پاس جنگ کے لیے تیار ہزاروں افراد ہیں ، لیکن کاروائی کے لیے صرف دس افراد کو میدان میں بھیجا جاتا ہے ! شام کی آزاد فوج کے اس کمانڈر نے تاکید کی : مخالف گروہوں کا جو ایکشن روم ہے وہ چوروں کے اجتماع کے مقام  میں تبدیل ہو چکا ہے ، اور سب کے سب اپنے مفادات کے پیچھے ہیں ۔

وہ کہ جس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ٹی وی کے پروگرام میں اس نے اپنی بات جاری رکھی : اب لوگ انقلابیون اور  مجاہدین جیسے الفاظ سے نفرت کرتے ہیں  اور سب ان گروہوں کے تحت تصرف  علاقوں سے بھاگنا چاہتے ہیں ۔

تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ امریکہ اجازت نہیں دیتا کہ انتہائی شدت پسند تنظیموں  کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں درج ہو ، اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پینٹاگون سے ہتھیار لیتے ہیں اس کے بعد انہیں داعش اور القاعدہ تک پہنچاتے ہیں ۔ البتہ شام کی قانونی حکومت کو سرنگوں کرنا ایک مقصد ہے کہ جس کے پیچھے امریکہ اس ملک میں ہے ۔

ریچرڈ ہیڈن بلیک امریکہ کا جمہوری خواہ سینیٹر اس سلسلے میں کہتا ہے : بعض کا یہ ماننا ہے کہ شام کی حکومت کو سرنگوں کرنے کا ہمارا عزم خود کشی کے مترادف ہے اور یہ چیز نہ صرف پورے مغربی ایشیاء کے لیے بلکہ واقعی معنوں میں پوری دنیا کے لیے خطر ناک ہے ۔

اس نے کہا : اگر شام کی حکومت سرنگوں ہو گئی اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے ہاتھوں میں آ گئی  تو لبنان کی حکومت بھی سرنگوں ہو جائے گی اردن بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور پورے علاقے میں بد امنی پھیل جائے گی ۔

ہیڈرن بلیک نے آگے شام کی جنگ میں  گذشتہ سال اکتوبر میں روس کے شامل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تصریح کی : اگر امریکہ اس وقت خود کو الگ کر لیتا تو جنگ اس وقت تک ختم ہو چکی ہوتی ، لوگ اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کر سکتے تھے اور پناہ گزین بھی شام واپس آ سکتے تھے ۔ لیکن امریکہ نے  اپنے ٹینک شکن میزائل استعمال کیے اور ہم نے ان باغیوں سے جن کو میانہ رو کہتے ہیں اور یہ شام میں دہشت گردوں کی مدد کے لیے القاعدہ کی شاخ ہے سے استفادہ کیا ۔

اس سینیٹر نے سی آئی اے کے ہتھیاروں کو ترکی اور وہاں سے شام منتقل کر کے اعتدال پسند مخالفین کو مسلح کرنے کے پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ہم اس کام کو غیر مستقیم طریقے سے انجام دے رہے ہیں ، اس لیے کہ اس کو براہ راست انجام دینا غیر قانونی ہے ۔

شام میں امریکہ کی موجودگی اور اس کا کردار تجزیہ نگاروں اور امریکی حکام کے بقول انتہائی مخرب ہے اور یہ کردار دنیا کو ٰایک نئی جنگ میں دھکیل سکتا ہے ، اور مغربی ایشیا کے علاقے کو گونا گوں خطروں سے دوچار کر سکتا ہے ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲